• Email:

    info@haqanitrust.com

  • Call Us:

    +91 7006799269

  • Donate us

میر سید عزیز اللہ حقانیؒ

حضرت میر سیدعزیز اللہ حقانیؒ شخصیت اورکارنامے بشیر احمد ڈار
کشمیر کی مٹی جس قدر زرخیر ہے اس سے کہیں زیادہ مردم خیز بھی ہے۔یوں تویہاں کہی ادیب ،عالم اورمورخ پیدا ہوئے ،لیکن غالباً آسمان ادب پر کبھی کبھارہی حقانی جیسا ستارہ طلوع ہوا۔جس نے بیک وقت تاریخ ،شاعری ،نثرنگاری،طباور علمی ودینی گوشوں کی ضیافشانی کی ہو۔
حضرت میر سید عزیز اللہ حقانیؒ کی ولادت ۱۱ ربیع الثانی1287ھ مطابق 1861ء کو ہوئی۔ آپؒ کے والد گرامی حضرت میر سید شاہ محی الدین حقانیؒ خاندان ِحقانیہ میں نمونہ آسلاف تھے۔ جن ایام میں آپ ؒ تولدہوئے وہ کشمیر کی انتہائی غلامی کا زمانہ تھا۔اس وقت ملک ِکشمیر سکھاشاہی کے بعد ڈوگرہ راج میں پابہ زنجیر تھااور ملک سیاسی ، سماجی، دینی اور علمی طور ناگفتہ بہ حالات کے بھنور میں پھنسا ہواتھا۔ ان پر آشوب ایام میں حضرت حقانی ؒبہت سارے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے قلم اور فکر کی توانائی کے بل پر تابندہ ستارے کی مانند آسمانِ علم وا دب پر اور میدانِ دعوت وارشادمیں چمک اٹھے۔ آپ ؒ بیک وقت عالم، صوفی ، ادیب ، مفکر ، مصلح اور مورخ تھے۔ آپ ؒنے شعر و ادب، علم و عرفان، تاریخ و جغرافیہ میں اپنے زریں قلم سے لافانی شاہ کار تخلیق کئے۔ یہ عظیم سرمایہ علماء و عرفاء کے ساتھ ساتھ عوام و خواص کے لئے فوائد کا گنج ہائے گراں مایہ ہے۔ آپ ؒ کی تصانیف میں تاریخِ ِعالم ، دیوانِ حقانی، ممتاز بے نظیر، جوہر عشق اور گلدستہ بے نظیر، روضتہ الشہداء قابل ذکر ہیں۔حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی ؒ کی تنصانیف کا ہر لفظ علم وادب کی کسوٹی پر بے نظیر اور منفرد ہے۔یہاں کئی مورخوں نے تواریخیں قلمبند کیں لیکن شایدہی کسی نے ”تاریخ عالم“ جیسی جامع تاریخ مصرض وجودمیں لائی جس میں مورخ حقانیؒ صاحب نے حضرت آدمؑ سے لے کر پیغمبر آخرالزمانﷺتک ،عرب سے لے کر ہندوستان تک کی تاریخ اور پھر کشمیر کی مفصل تاریخ ترتیب دی ہے اس معرکتہ لآرا تصنیف” تاریخ عالم“ (تحفہ الکبریٰ) میں تاریخ ِا سلام اور مسلم سلطنتوں کا حال و احوال بھی درج ہے۔ موصوف نے تاریخ ِ کشمیر بھی تفصیلاً قلم بند کی۔چونکہ تاریخ ِکشمیر کا یہ دور حضرت حقانیؒ نے بچشم خود دیکھا، اس لئے اسی مناسبت سے زیر بحث تاریخ کو محققانہ حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ کشمیر میں یہ دور سیاسی اتھل پتھل اور تنزل سے لبریزتھا لیکن اس کی ہوبہوعکاسی جس ڈھنگ سے مذکورہ تاریخ میں ہوئی ہے ،وہ حقانیؒ کا ہی خاصہ ہے اس منفرد تصنیف میں یہاں کی جغرافیائی تصویر بخوبی کھینچی گئی ہے ، نیز کشمیر کے نباتات و جمادات، یہاں کی مٹی اسکے اقسام ، زمین او ر اس کے خواص، پیداوار، جڑی بوٹیوں اور پیڑ پودوں کے طبی فوائد، چرند وپرند ، باغات وکوہسار، عوام کے پیشے، پیشوں کے لوازمات وغیرہ کے بارے میں دلچسپ معلومات بیان کی گئی ہیں۔تاریخ نویسی میں آپؒ نے روایتی واقعات نگاری سے ہٹ کر اپنی جدت طرازی سے اس فن کو ایک نئی جلاّبخشی۔ ان کا قلم بادشاہوں یا حاکموں اور ان کے محل خانوں سے باہر عوام اور عوام سے متعلق حالات و کوائف کو تاریخ میں سمیٹتا رہا۔سماجی تاریخ کو حکمرانوں کی تاریخ پر ترجیح دینے کی اسی سوچ و فکرکا نتیجہ ”سیلاب نامہ“، ”نار نامہ “، ”درویش نامہ“ جیسے رسائل ہیں ”نار نامہ “ نامی تصنیف میں 1309ہجری میں سرینگر میں رونما ہوۓ بھیانک آگ کےواقعے کا ذکر کیا گیا ہے جسمیں گنپت یار سے نرپرستان تک دونوں جانب کے تمام مکانات جل کر راکھ ہوگۓ تھے، حتی کہ مصنف کے مطابق حضرت میرسید شاہ قاسم ؒ کی مسجدشریف و حمام اور انکا رہاشی گھر بھی اس آگ کی لپیٹ میں آگۓ تھے ۔ ۔ آپؒ نے اپنے انسابِ سادات اور اربابِ ولایت کے بارے میں”لطائف الحقانی “نام سے سوانح حیات بھی مرتب کی ہے جس میں بعض عظیم شخصیات کے حالاتِ زندگی ،ان کے پیرومرشد ، خلفاء وغیرہم کا تذکر ہ مو جود ہے۔ بحثیت اسلامی مفکر حضرت میر سید عزیز اللہ حقانیؒ کو اسلامی مسائل پر خاصی دسترس حاصل تھی،جس کا اظہار انہوں نے اپنی تصانیف میں کیا ہے،غالباً وہ برصغیر میں پہلے عالم دین تھے ،جنہوں نے سب سے پہلے 1914ءمیں برہان المسلمین (روِوہابی) تحریر کر کے اُن وقیق مسائل پر قلم اُٹھایا جوکہ اُس وقت امت مسلمہ کو عموماً اور اہل سنت والجماعت کو خصوصاً درپیش تھے، حضرت عزیز اللہ حقانی ؒ نے اِس تصنیف میں جس طرح قرآن وسنت سے غیر مقلد عالم سے ابھارے گئے اُن شبہات کو دور کیا ہے، اُس سے ان کے دینی وعلمی تفکر کا غمازملتا ہے۔ اس طرح ایک حساس عالم دین کی حثیت سے انہوں نےا پنے زمانے کے اہم دینی معاملات کی علمی توضیحات پیش کی ہیں اپنے اصلاف کی طرح حضرت عزیز اللہ حقانی ؒکی زندگی کا محور عرفان الہٰی اور عشق نبیﷺ ہے ۔ حقانی صاحب ؒ عشق کی راہ اخیتار کرکے مافہیا کو بھول کر بس ایک ہی لگن لگائے نظرآت
بسویت آمدہ گم کردہ راہے۔نگاہے یارسول اللہ نگا ہے۔
انہیں دنیا میں بھی اور محشر میں بھی حضور ﷺ کے سہارے کی طلب ہے
میہَ ستِ سوُرِم کُنسّ جاننس مہر آسم میہَ پُر تھ تانِس
کرَے تھفِ زورِ ءداِمانسَ مکمل یارسول اللہ ۔
حقانی صاحب ؒ عشق میں اُس انتہا کو گۓ ہیں کہ،وہ اجل کو بھی محبوب سے وصال کی خاطر انتظار کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
دَی مہلتِ اے اجل َ تامتِ میہِ یامتَ یارِ ہاوم رِوے۔مَرے کرتام یّیم نئے احمدمختار ہاوِم روئے۔
۔ ”روضتہ الشہداء“ کے عنوان سے اپ ؒنے مرثیہ کے صنف میں طبع آزمائی کی ہے ، البتہ واقعات کو فلسفیانہ اور صوفیانہ پیر ائے میں پیش کیا ہے۔عبدالاحد آزاد لکھتے ہیں۔محمود گامی کے بعد اگر کشمیر میں کوئی مطلق العنان سخنور ہے ،وہ حقانی صاحبؒ ہیں ،شاعری میں اس مردِ میدان نے ہر قسم کے کرتب دکھائے ہیں۔غزل میں حقانی صاحبؒ کا فن اور بھی ابھر کرآتاہے ان میں عرفان بھی ہے اور روحانیت بھی۔لیکن نعت گوئی میں حقانی صاحب کافن پوری طور سے نکھر کر آیاہے ان کے تحریر کیے ہوئے نعوت کا ایک ایک لفظ دِل کو چھوتا ہے،زبان کنگ ہوجاتی ہے۔آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔حضرت حقانیؒ کا بحیثیت ایک مایہ ناز نعت گو شاعر کے بھی اپناایک یکتا ومنفردمقام ہے۔ آپ ؒ کی تصانیف کی تعداد کم و بیش بیس ہے لیکن یہ تصانیف ریاست کے ادبی اورثقافتی اداروں کی سرد مہری کی وجہ سے ابھی تک اشاعت پذیر نہ ہوئیں۔امید کی جانی چاہیے کہ حضرت کے رشحات قلم کو افادة عام کے لئے دیر سویر زیورِ اشاعت سے آراستہ کیا جائے گا۔١٩٢٧ عیسوی میں ان کا وصال ہوا اور نرپرستان فتح کدل سرینگر میں آسودہ خاک ہیں