• Email:

    info@haqanitrust.com

  • Call Us:

    +91 7006799269

  • Donate us

حسنین کریمین کانفرنس

اہل بیت اطہار کی دین مبین کی خاطر جانفشانی
حقانی میموریل ٹرسٹ کی آن لاٸن حسنین کریمین علیہ السلام کانفرنس
سرینگر ١٣ ستمبر:
حقانی میموریل ٹرسٹ جموں و کشمیر نے حضرت امام حسن و امام حسین (ع) اور شہدائے کربلا کو گلہاۓ عقیدت پیش کرنے کےلیے آج حسنین کریمین علیہ السلام کانفرنس کا آن لاٸن طرز پر انعقاد کیا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت مولانا محمد شفیع نعیمی نے حاصل کی جب کہ مناقب امام حسین علیہ السلام سید محمد اقبال نے پیش کرکے کانفرنس میں شرکا سے داد تحسین حاصل کی۔حسنین کریمین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےٹرسٹ کے سرپرست سیدحمید اللہ حقانی نے کہا کہ امام عالی مقام حضرت امام حسین (ع) اور انکے ساتھیوں نے کسی ذاتی غرض یا ہوس اقتدار کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیوں کا نذرانہ پیش نہ کیا بلکہ بڑی شجاعت کے ساتھ حق و صداقت، عدل و انصاف، ایثار و قربانی، جرات و شجاعت اور عزم و استقلال کی ایک ایسی تاریخ رقم کی،جس کی نظیر ملنا دشوار ہے جلیل القدر عالم دین مولانا شوکت حسین کینگ نے کانفرنس کی پہلی نشت کی صدارت کی۔ انہوں نے صدارتی خطبے میں موضوع کے حوالے سے فرمایا کہ کشمیر کے مسلمان جب سے اسلام کی دولت سے سرفراز ہوۓتب سے ہی وہ حضور پر نور ﷺ اہل بیت اطہار اور صحابہ عظام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے ساتھ محبت کی عظیم نعمت سے بھی سرشار ہیں کشمیر میں اس نظریے کی بنیاد حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒ نے شروع کی اور کشمیر کے عظیم صوفیا بشمول شیخ العام حضرت شیخ نور الدین نورانی ؒ حضرت محبوب العام شیخ حمزہ مخدومؒ حضرت ایشان شیخ یعقوب صرفیؒ نے اس جذبے یعنی حب رسول ﷺ اور حب اہل بیت کو کشمیر میں فروغ دینے میں قاٸدانہ کردار ادا کیا اور یہاں کے جملہ صوفیاۓ عظام نے اس جذبے کو مزید پروان چڑھایا اہل بیت اطہار کے متعلق قرانی آیات اور احادیث کا حوالہ دے کر مولانا شوکت حسین کینگ نے ان کی عظمت اور اسلامی تاریخ میں انکے لامثال کردار کی وضاحت کی جہاں امام حسن علیہ السلام نے اتحاد اور صلح جوٸ میں تاریخ رقم کی وہیں امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے ریگ زاروں میں وہ قربانی پیش کی جس کی نظیر تاریخ کے اوراق میں نہی ملتی۔ حقانی میوریل ٹرسٹ کے صدر جناب غلام محمد ڈار نے مفصل طور پر واقعہ کربلا کے فلسفے کی وضاحت کی۔ مرکز اسلامی کے سربراہ اور نامور مصنف سید بلال کرمانی نے آن لاٸن خطاب میں احادیث کی روشنی میں حضرات حسنین کریمین کے فضاٸل کے بارے میں مفصل بیان فرمایا حضرت امام حسن مجتبیٰ کے اسلامی تاریخ میں عظیم کردارکا ذکر کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ حکمت نبوی ﷺ اور اسوہ حسنہ کی پیروی کرتے ہوۓ انہوں نے امت کےلیے ایک بہترین مثال قاٸم کی جب کہ امام حسین نے فسق و فجور کے خلاف عزیمت کے جزبے سے اپنی اور اپنے اہل وعیال اور رفقا کی قربانی پیش کرکے رہتی دنیا تک ایک ایسی تاریخ وجود میں لاٸ جو صبح قیامت تک لوگوں کو رہنماٸ کرتی رہے گی ۔جید عالم اور مصنف شہباز ہاکباری نے واقعہ کربلا اور جانثاروں کے قربانی کے فلسفے پر سیرحاصل تقریر کی۔
دوسری مجلس میں شعراۓ کرام نےحسنین کریمین اور شہداۓ کربلا کو منظوم گلہاۓ عقیدت پیش کیے۔جن شعرا نے اس کانفرنس کو زینت بخشی ان کے اسماۓ گرامی یہ ہیں ڈاکٹر محمد امین تابش، میر شبیر ، شہباز ہاکباری ڈاکٹر واحد رضا بانڈرو، سید محمدامین چاڈورہ،میرک شاہ طالب کاندہامی، حسن اظہر،ندیم الطاف ستورہ ترال، امتیازانجم،عبدلاحد میر غوطہ پوری ۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری بشیر احمد ڈار نے جملہ شرکاۓ کانفرنس علماۓ عظام اور شعراۓ کرام کے تیں تشکر کا اظہار کیا جنوں نے آن لاٸن کانفرنس کو زینت بخشی اور حب اہل بیت کا والہانہ اظہار کیا۔ایسی کانفرنسوں کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان حسنین کریمین علیہ السلام کے تیں گلہاۓ عقیدت پیش کرکے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ باطل اور ظالم و جابر قوتوں کے خلاف حق اور عدل و انصاف کی خاطر نبردآزما ہونے والوں کا ساتھ دینا کے لئے کوٸ بھی قربانی دینے کےلیےہمیشہ پیش پیش رہنا چاہیے