قطب ربانی شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ کو گلہاۓ عقیدت حقانی میموریل ٹرسٹ کی پروقار آن لاٸن کانفرنس
سرینگر۔6 دسمبر:
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ کے عرس شریف پر گلہاۓ عقیدت نچھاور کرنے کے سلسلےمیں حقانی میموریل ٹرسٹ کے اہتمام سے آج آن لاٸن کانفرنس منعقد ہوٸ ۔جس میں علما ۓ عظام دانشوروں اور نعت و مناقب خوان حضرات نے والہانہ طور شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت ریاست کے معروف عالم دین مولانا شوکت حسین کینگ نے کی ۔جب کہ مولانا اسد اللہ مصباحی اور شہباز ہاکباری بہ طور مہمانان ذی وقار شریک مجلس رہے۔ کانفرنس کا آغاز دارلعلوم قریشیہ کے طالب علم کی پیش کردہ قرانی آیات سے ہوا ۔نعت مقدس ٹرسٹ سے وابستہ مولانا محمد شفیع نعیمی نے پیش کرکے قلوب واذہان کو معطر و منور کیا۔ مقبول و معروف نعت خوان ابوالحسن فاروقی صاحب نے مناقب غوث صمدانی ؒ سے کانفرنس میں نورانی سماں باندھا۔ سجادہ نشین اور ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ آج کے پُر آشوب دور میں حضرت پیر دستگیر ؒ کی تعلیمات اور کارناموں کو دہرانا انتہاٸ مطلوب اور ناگزیر ہے انہوں نے دینِ اسلام کی خاطر جو کارنامے انجام دۓ اس کی بنا پر وہ تاقیامت یاد کۓ جاینگے کانفرنس کے صدر مولانا شوکت حسین کینگ نے اپنے تحقیقی اور جامع آن لاٸن خطاب میں حضرت شہباز لامکانیؒ کی تصانیف کے بارے میں بیان فرمایا۔ اس امر کی دلالت کرتے ہوۓ کہ وہ سردار اولیا ہونے کے ساتھ ساتھ قلم کے شہسوار مانے جاتے ہیں انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ حضرت محبوب سبحانی ؒ مفسر قران بھی ہیں انہوں نے پورے قرآن شریف کا ترجمہ کیاھے جو دوجلدوں میں اندلس اور مصر میں موجود تھا۔اب چندجلدوں میں شایع ھوا ھے۔مولانا کینگ صاحب نے الفتح الربانی، دیوان غوث الاعظم ، غنیتہ الطالبین اور کبریت احمر سمیت ان کی اور ان سے منسوب دیگر تصانیف کی اہمیت اور عظمت کی مدلل وضاحت کی۔ مفکر اسلام ، ادیب اور نامور خطیب مولانا اسداللہ مصباحی نے اترپردیش سے آن لاٸن خطاب میں فرمایا کہ حضرت شیخ سید محی الدین جیلانیؒ اپنے عظیم کارناموں کی وجہ سےپوری دنیا میں بالعموم اور عالم اسلام میں بالخصوص محبوب و مقبول ہیں ان کی شخصیت منفرد، نابغہ روزگار اور نعمت غیر مترکبہ ہیں وہ اپنے علم، اخلاص اور عمل کی وجہ سے بے مثل مانے جاتے ہیں۔ان کی عظمت کا بیان کرتے ہوۓ پروفیسر اسداللہ صاحب نے کہا کہ اپنے وقت کے معتبر ، مقتدر اور جیید علما نے ان کی حیات، کارناموں اور تصانیف پر لاتعداد کتابیں لکھی ہیں جن کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ان کے قصیدہ غوثیہ کی شرح میں بہت سے مصنفین نے شرحیں لکھی ہیں جن میں اعلیٰ حضرت احمد رضا خان کی الزمزمتہ القمریہ خصوصاً قابل ذکر ہے وہ اس زمانے کی ظلمت میں قندیل نور رہے جنہوں نے اپنی بےپناہ خدمت سے گمراہوں کو راہنماٸ کی۔ نامور مصنف اور محقق شہباز ہاکباری نے اپنے خطاب میں مخصوص انداز میں حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی ؒ کے فارسی کلام یعنی دیوان غوث الاعظم کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ ان کا کلام علم و عرفان کا خزانہ ہے اس میں عالمانہ عظمت بھی ہے اور شاعرانہ رفعت بھی۔ ایک جانب یہ خدا شناسی اور توحید و رسالت کا گنج بے بہا ہے تو دوسری سمت یہ معرفت الہی اور عشق رسولﷺ سے لبریز ہے حقانی میموریل ٹرسٹ کے ضلع صدر پلوامہ مولانا سمیع اللہ بٹ نے اپنے خطاب میں حضرت شاہ جیلانؒ کے اسلامی اور علمی کارناموں کا مفصل بیان کیا۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری بشیر احمد ڈار نے ٹرسٹ کی جانب سے شکریے کی تحریک پیش کرکے تمام شرکا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جب بیشتر ممالک میں لوگ غربت و فاقہ کشی کا شکار ہورہے ہیں ہمیں پیرانِ پیرؒ کی تعلیمات خصوصاً غریب پروری کی تقلید کرنی چاہیے۔